حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبر شہید حضرت آیتاللہ خامنہای رضوان اللہ تعالیٰ علیہ کے بیانات میں اس نکتے پر زور دیا گیا ہے کہ قیامِ امام حسین (ع) صرف میدانِ جنگِ عاشورا تک محدود نہیں ہے۔
امام حسین علیہالسلام کو صرف جنگِ روزِ عاشورا کے ذریعے نہیں پہچانا چاہیے۔ یہ امام حسین علیہالسلام کی جہاد کا ایک حصہ ہے۔ ان کی تبیین، ان کا امر بالمعروف، ان کا نہی عن المنکر، منٰی اور عرفات میں مختلف مسائل کی وضاحت، علما کو خطاب، ممتازین کو خطاب — حضرت کے عجیب و غریب بیانات ہیں جو کتابوں میں درج اور محفوظ ہیں — پھر راستے میں کربلا کی طرف، خود کربلا کے میدان اور کربلا کے میدانِ جنگ میں بھی، ان تمام امور سے ان کی معرفت حاصل کرنی چاہیے۔
خود کربلا کے میدان میں حضرت اہلِ تبیین تھے، جاتے تھے، گفتگو کرتے تھے۔
حالانہ ابھی تو میدانِ جنگ ہے، منتظر ہیں کہ ایک دوسرے کا خون بہائیں لیکن اس بزرگوار نے ہر موقع سے فائدہ اٹھایا کہ جا کر ان سے بات کریں، شاید انہیں بیدار کر سکیں۔
البتہ:
بعض جو خوابِ غفلت میں تھے، بیدار ہو گئے؛
بعض نے خود کو سوتا ہوا بنا لیا تھا وہ آخر تک بیدار نہیں ہوئے!۔
جو خود کو سوتا ہوا بنا لیتے ہیں، انہیں بیدار کرنا مشکل ہے، کبھی کبھار ناممکن ہوتا ہے۔









آپ کا تبصرہ